Torwali

ابائی ثقافتوں کو لاحق خطرات۔ توروالی موسیقی کا مقدمہ

تحریر و تحقیق

زبیرتوروالی

مصوری اور مجسْمہ سازی کی طرح موسیقی اور رقص بھی فن ہیں کیونکہ ان کا تعلق بھی انسانی جذبات اور جمالیات سے ہے۔ لیکن مجسمہ سازی یا مصّوری کے برعکس موسیقی اور رقص تین جیہتوں میں کسی بولی کی طرح ہوتے ہیں۔ کسی جملے کی طرح موسیقی اور رقص کی بھی ایک ابتدا، درمیاں اور انتہا ہوتی ہے۔ ایسا مصّوری کے ساتھ نہیں ہوتا کہ اسکی نہ کوئی ابتدا ہوتی ہے اور نہ انتہا۔ یہ زماں کے قید سے ازاد ہوتی ہے۔ ایک بار ہوگئی تو تاابد رہ سکتی ہے۔ جبکہ موسیقی اور رقص غیر مرئی ہوتے ہیں۔ یہ اپنے اظہار کے لئے ادائیگی performance کی مرہون منت ہوتے ہیں۔اگر چہ ان کا“خیال” موسیقی یا رقص کے اس الے میں کہیں پنہاں ہوتا ہے لیکن حقیقت میں وہ صرف اسی صورت میں وجود رکھتے ہیں جب اس کی ادائیگی ہو۔ ایک بار یہ ادائیگی ختم ہوگئی تو یہ بھی ساتھ معدوم ہوتے ہیں جب تک انہیں محفوظ record نہ کیا جائے۔ یہ کسی شاعر یا افسانہ نگار کے خیال کی طرح موسیقار یا رقاص کے ذہین میں مجود ہوتے ہیں لیکن کوئی طبعی صورت نہیں رکھتے جب تک ان کو تحریر میں نہ لایا جائے یا ادا نہ کیا جائے۔ اسی لئے اب تو کئی معاشروں میں موسیقی کو باقاعدہ تحریر بھی کیا جاتا ہے۔

“چھوٹے سماجوں” small scale societies میں موسیقی اور رقص بھی شاعری اور داستان گوئی کی طرح ایک نسل سے دوسری نسل میں زبانی منتقل ہوتے ہیں۔ رقص اور موسیقی کا تعلق کسی سماج کے کلتوری یعنی ثقافتی روایات سے ہوتا ہے۔ اسی لئے اکثر ماہرین رقص یا موسیقی کو اسی تناظر میں دیکھتے ہیں۔ ان کلتوری روایات اور موسیقی و رقص کا اپس میں گہرا تعلق ہوتا ہے۔ ایک ختم ہو جائے تو ساتھ دوسرا بھی ختم ہوجاتا ہے۔ یا پھر بیرونی اثرات کے تحت یہ اپنی ہیئت اور ساخت بھی تبدیل کردیتے ہیں۔

پاکستان میں بہتّر73 زبانیں بولی جاتی ہیں۔ اردو، پنجابی، پشتو، سندھی اور بلوچی کے علاوہ دیگر زبانوں کے بارے میں لوگ کم جانتے ہیں۔ ان زبانوں میں ستائس (27) زبانیں ایسی ہیں کہ جن کو یونیسکو نے ”خطرے سے دوچار“ زبانوں کی فہرست میں ڈالا ہے۔ زبان کے ساتھ ساتھ ان لسانی قومیتوں کی ثقافت خصوصاً موسیقی اور رقص کو بھی کئی خطرات لاحق ہیں۔ یہ موسیقی نہ تو ریکارڈ کی جاتی ہے اور نہ ہی اسکے اظہار کا کوئی موٴثر نظام موجود ہے۔ ایک طرف اگر کٹر مذہبی سوچ کی ترویج ان لسانی کمیونیٹیز کو اپنے کلتور سے نفرت پر اکساتی ہے تو دوسری طرف ان کے ساتھ پاکستان میں بسنے والی بڑی قومیتوں کی ثقافت ان کو زیر کرتی ہے اور اب تو ابلاغ عامہ اور تفریح کے طاقتور ذرائع کے شکنجوں میں یہ دیسی ثقافتیں اپنی اخری سانسیں لے رہی ہیں۔

پاکستان کی ہر چھوٹی لسانی کمیونیٹی اس کرب سے گزر رہی ہے۔ کس طرح جدیدت modernity اوراس کے نتائج مذہبی انتہاپسندی، نئی جیو سٹریٹجیک فکر geo-strategic policies نے ان چھوٹی لسانی قومیتوں کو متاثر کیا ہے اسی طرح کی ایک کمیونیٹی کی موسیقی پر ایک سرسری نظر سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے۔

پاکستان کے بہشتی وادی سوات کے فردوسی علاقے سوات کوہستان میں دو لاکھ کی ابادی سوات کی دو قدیم قومیتوں ’’توروالی “ و “گاؤری “ پر مشتمل ہے۔ یہ لوگ بحرین، کالام اور مدین کی وادیوں میں پہاڑوں پر اور دریا سوات کے اس پاس رہتے ہیں۔ دونوں قومیتوں کی الگ الگ مگر بہت ہی مشابہ زبانیں توروالی اور گاؤری ہیں۔ ارضیات اور بشریات کی جدید تحقیق ان دو قومیتیوں کو سوات اور دیر کے اصل باشندے مانتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ سوات میں دیگر قوموں نے اپنی امد کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کو بتدریج زیر کرکے اپنے مذاہب سے بہرہ ور کیا۔ یہ عمل اپنی نوعیت میں ایسا ہی رہا جیسا کہ اب چترال میں بسنے والے کلاش لوگوں کے ساتھ ہورہا ہے۔ پوری انسانی تاریخ گواہ ہے کہ قوموں کو فتخ کرنے کے لئے پہلے تلوار کو استعمال کیا گیا اور جو لوگ اس سے بچج نکلے ان کو پھر اپنی طرح “مہذب اور مقدّس “ بنانے کے لئےسماجی دباؤ کے ساتھ ساتھ درس و تدریس اور تبلیغ کے طریقوں کو اپنایا گیا۔ اس وقت کے حملہ اوروں نے سوات کو قبضہ کرکے اصل باشندوں کو اہستہ اہستہ پہاڑوں میں دکھیل کر ان کو “کوہستانی “ یا ’کوھستانے ‘ کا نام دیا۔

مفتوح اقوام ہمیشہ فاتح اقوام کے طور طریقے اور عادات اپناتی ہیں اسی طرح یہاں کے ان اصل باشندوں نے اہستہ اہستہ وہ القابات و خطابات اپنائے جو ان کو ان فاتح قوموں نے دیے۔ ان کی اصل شناخت بھی اسی اخری بدنصیب نسل کے خاتمے کے ساتھ مرگئی۔ زبان و ثقافت کی معدومی کے نتیجے میں یہ لوگ اپنی اصل شناخت بھی کھو گئے اور اگے انی والی نسلوں نے شناخت کے اس بحران سے نکلنے کے لئے کئی زبانی نظریات گھڑ لیے۔ کسی نے اپنے اپ کو عرب کہا تو کسی نے اپنا شجرہ پٹھانوں نے ملادیا۔

ایسے میں جدید تعلیم کی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے ان کی زبانیں کسی حد تک بولنے تک محدود رہیں کیونکہ پہاڑوں میں دیکھلنے کے بعد ان سے فاتح اقوام کا رابطہ بہت ہی کم رہا۔ اسی وجہ سے انکی اپنی دیسی روایات بھی کسی حد تک برقرار رہیں۔

ان کلتوری روایات میں سب سے ذیادہ نمایاں شاعری رہی۔ شاعری کسی بھی زبان کا پہلا ادب ہوتا ہے۔ یہ کسی بھی معاشرے میں انفرادی اور کسی حد تک اجتماعی اظہار کا ذریعہ ہوتی ہے۔

توروالی شاعری کسی حد تک خود کو زبانی حد تک زندہ رکھ سکی۔ توروالی شاعری میں سب سے اہم اور مقبول صنف “ڙو” (ژو اصل میں ’ر ‘ کے اوپر چار نکتے کرکے لکھا جاتا ہے) کی ہے۔ دوسری اہم صنف “پھل” ہے۔ دونوں کی کئی اقسام ہوجاتی ہیں مگر یہ اقسام کسی موضوع، ہیئت اور ساخت سے ذیادہ گائیگی کے انداز سے تعلق رکھتی ہیں۔ ڙو اور پھل کے گانے کے مواقع مختلف ہوتے ہیں۔ مختلف تقریبات مثلًا شادی بیاہ، تہوار یا ہشر کے موقعوں پر یہ شاعری گائی جاتی تھی۔ اپنی ہیئت میں ”ڙو“ اردو قطعہ سے مشابہ ہے اور پشتو ٹپہ کی طرح عوامی ہے۔

“ڙو” کے گانے کے چھ مختلف طریقے ہیں۔ اسی طرح پھل بھی تین مختلف طریقوں سے گایا جاتا ہے۔

توروالی شاعری اور موسیقی کو تین ادوار میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔

کلاسکی (قدیم) دور: یہ دور ”ڙو“ کے لیے بہت شاندار تھا۔ اس کی کوئی ابتداء معلوم نہیں کی جاسکتی البتہ اسے ہم قدیم اور طویل دور کہہ سکتے ہیں۔ رسم الخط نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے تاریخی اور کلاسیک ”ڙو“ معدوم بھی ہوچکے ہیں کہ جن سے شائد اس قوم کی تاریخ اسانی سے معلوم کی جاسکتی۔ کئی نا معلوم شعراء اور شاعرات کے “ڙو‘ اب بھی بطور ضرب الامثال پیش کیے جاتے ہیں۔ یہ وہی دور ہے جس میں خواتین شعراء کی تعداد بہت ذیادہ تھی۔ یہ مرد اور خواتین شعراء ایک دوسرے کو ”ڙو“ میں جوابات بھی دیتے تھے۔ اگر کوئی شاعر ایک قطعہ کہتا تو دوسرا اس کا جواب دیتا۔ خاتون شاعر بھی کسی مرد شاعر کو ”ڙو“ میں جواب دیتی اور اس کو معیوب بھی نہیں سمجھا جاتا۔ اس دور میں مختلف موقعوں کے لیے “پھل” نے بھی رواج پایا۔ ”ڙو“ میں مثتوی اور رمرزیہ کہانیاں بھی گائی جاتیں۔

ٹیپ ریکارڈر والا دور

ٹیپ ریکارڈر کی امد نے توروالی شاعری پر مثبت اور منفی دونوں اثرات ڈالے۔ البتہ مثبت اثرات ذیادہ نمایاں رہے جو کہ حیران کُن بھی ہیں کیونکہ اکثر نئی ٹیکنالوجی نے دیسی ادب و فن کو تباہ ہی کیا ہے۔ یہ دور 1970 ء تا 2000 ء تک محیط ہے۔ اسی دور کی ابتداء میں توروالی شاعری اور موسیقی نے بڑی تیزی دیکھائی۔ علاقےکے لوگوں میں ٹیپ ریکارڈر Tape recorder and player روزی کمانے کی خاطر سفر کرنے والوں کی وجہ سے متعارف ہوا۔ یہ لوگ جب مزدوری سے گھر واپس اتے تو انکے پاس ٹیپ پلیئر ضرور ہوتا جس کے زریعے وہ پردیس یعنی کوئٹہ، حیدراباد، کراچی یا دیگر شہروں میں سخت مزدوری کے دوران اپنا دل لبھاتے۔ یہ انڈیوال چونکہ محفلیں بھی سجاتے اس لیے بسااوقات اپنی موسیقی کو ٹیپ کیسیٹ پر ریکارڈ بھی کراتے۔ ان مزدروں کو اکثر گھروں سے کیسیٹس بھی اتے جن میں اپنے پیاروں کی اوازیں ہوتیں اور گھر، گاؤں اور علاقے کے احوال بھی۔ واپسی میں یہ مزدور ایسے ہی کیسٹس cassettes اپنی اواز میں ریکارڈ کراکر گھروں کو ڈاک یا پھر کسی ساتھی کے ہاتھوں بھیجتے۔ اس سے پہلے خطوط لکھے جاتے جہاں پیاروں کی اواز نہیں ہوتی مگر ٹیپ ریکارڈر نے اواز بھی محفوظ کرادی اور یوں اپنے ایک دوسرے کو زیادہ قریب محسوس کرنےلگے۔

گاؤں میں یا پردیسی میں لوگ بیٹھکوں یا “دیروں” میں محفلیں سجاتے اور ان محفلوں میں گائے ہوئے ”ژو“ کو اسانی سے ٹیپ کیسٹس میں محفوظ کرلیتے۔

اسی دور میں کئی نئے گلوگاروں نے جنم لیا اور انہوں نے ”ڙو“ کو بہت مقبولیت بخشی۔ ایسے گلوکاروں میں محمد زیب اور حلیم خان وغیرہ ”گیتال“ نے بہت شہرت پائی۔ محمد زیب نے کوئی 100 کیسیٹس یا والیمز volumes اور حلیم خان نے 70 کے قریب کیسٹس گائے۔ ان کے ساتھ کئی دوسرے گلوکاروں نے بھی کیسٹس ”بھرنے“ یعنی volumes نکالنے شروع کئے۔ پردیس میں بیٹھے مزدروں نے بھی اپنے من کا بھڑاس ”ڙو“ اور ’’پھل “ کے ذریعے نکالا اور اسی طرح اپنے لوگوں سے ایک جذباتی ربط بھی قائم رکھا۔ اسی دور میں بحرین بازار میں کیسٹس کی واحد دُکان ”ڙو“ کو اونچی اواز میں ٹیپ ریکارڈرز پر لگاتی اور راہگیر بڑے محظوظ ہوجاتے۔ محمد زیب کی درد بھری اواز میں ”ڙو“ کی وہ تاثیر ہم نے دیکھی ہے جب لوگ سنتے ہی ایک طرح کی سکوت میں چلے جاتے اور ان کی اواز بھر اتی۔ یہ تاثیر اس وقت دوگنّا ہوجاتی جب ”ڙو“ کو ستار کے ساتھ گایا جاتا۔ ہم جیسے “دیسی “ لوگوں پر تو اب بھی یہ ”ڙو“ ایک سکت طاری کرتا ہے۔

توروالی موسیقی کا زوال

اس شاندار دور کے اواخر میں ہی اس موسیقی کا زوال شروع ہوا تھا۔یہ زوال صرف توروالی موسیقی تک محدود نہیں بلکہ اس کی زد میں پشتو موسیقی بھی بری طرح اگئی۔ افغان ”جہاد“ کے شروع ہوتے ہی پورے خیبرپُختونخوا میں پناہ گزینوں کے روپ میں جہادیوں کی امد شروع ہوئی تھی۔ ان لوگوں نے اُن علاقوں کا رخ بھی کیا جہاں مقامی مولویوں کی تعداد کم تھی۔ یہ جہادیے ایسے علاقوں میں جاکر مولوی بنے اور مسجدوں میں امام بن کر رہنے لگے۔ اس دوران پاکستانی مذہبی جماعتوں کو بھی خوب چربی لگادی گئی۔

افغانستان میں پشتو اور دیگر علاقائی موسیقی کے مراکز کو تباہ کرنے کے بعد افغان جہاد کے اثرات پورے پاکستان خاص کر خیبرپختونخوا میں بہت گہرے پڑے۔ اسّی (80) کی دہائی کے بعد پورے صوبے خیبرپختونخوا میں محمد ابن عبدالوہاب (1703-92ء) کی کٹر مذہبی سوچ نے بہت شہرت حاصل کی۔ مقامی طور پر مولویوں کی ایک پود ابھر ائی اور انہوں نے ابن عبدلوہاب کی افکار کو ہر سُو پہلایا۔

اکثر مقامی شعراء توبہ تائب ہوگئے۔بعض نے سماجی دباؤ کے اگے گھٹنے ٹیک دیے۔

مذہب میں اسی ”جدید“ سوچ کے ساتھ ساتھ جدیدت نے بھی یہاں کی مقامی موسیقی کو بری طرح متاثر کیا۔ ٹیپ پلیئرز کے ساتھ وی سی ار VCR اگیا۔ توروالی کلتوری مرکز بحرین میں کئی ایک افراد نے وی سی ار کا کاروبار شروع کیا۔ وہ وی سی ار، کیسٹ اور ٹی وی کو کرایے پر دیتے۔ اسی طرح انہوں نے اپنی دکانوں کے پچھواڑے میں وی سی ار پر شوز بھی شروع کیے جہاں بولی ووڈ Bollywood کی فلمیں دیکھائی جاتیں۔ بڑی تعداد میں جوانوں نے ان دُکانوں کا رخ کیا اور اطراف کے گاؤوں میں بسنے والوں نے ان وی سی ار اور ٹی وی کو کرایہ پر لینا شروع کیا۔

چونکہ بصری اور تصویری visualsچیزیں سمعی audio چیزوں سے زیادہ پرکشش ہوتی ہیں اس لئے ٹیپ ریکارڈرز کی جگہ وی سی ار نے لی اور یوں مقامی موسیقی کی محفلیں اس یلغار کے اگے نہ ٹھر سکیں۔ اسی دور میں ہی صاحب ثروت لوگوں نے سیٹلائٹ satelitte ٹی وی لگائے جن پر زیادہ تر انڈین فلمیں اور ڈرامے دیکھائے جاتے۔ ان ڈراموں اور فلموں کا اثر اتنا گہرا ہوا کہ کئی لوگوں نے اپنے نومولود بیٹوں اور بٹیوں کے نام ان فلمی اداکاروں اور اداکارائیں کے ناموں پر رکھ لیے۔ان ڈراموں میں کرداروں کے نام لوگوں کو ازبر ہونے لگے۔

اس زوال کی انتہا اس وقت ہوئی جب توروالی علاقے سمیت پورے سوات پر طلبان کا قبضہ ہوگیا۔ پورے سوات میں اس خوف کی وجہ سے موسیقی کی دکانیں بند ہوگئیں اور کئی موسیقاروں، گلوکاروں اور رقاصاؤں کو یا تو قتل کردیا گیا یا پھر علاقہ یا ملک چھوڑنے پر مجبور کردیا گیا۔ خوف کے یہ سائے سوات کوہستان میں بھی پھیل گئے اور بحرین میں موسیقی بیچنے والی واحد دکان بھی بند ہوگئی۔

توروالی کلتور اور موسیقی کی احیا کی کوششیں

ایسے میں بحرین کے چند نوجوانوں نے علاقے کی مربوط ترقی اور اپنی ابائی ثقافت اور زبان کے تحفظ و فروغ کے لئے ایک ادارے کا قیام عمل میں لایا۔اس ادارے نے ایک طرف توروالی زبان کا رسم الخط بنا کر اس میں سکول کی اور دیگر کتابیں چھاپنا شروع کیے تو دوسری طرف اپنی ابائی ثقافت کو بھی محفوظ کرنے کے ساتھ ساتھ اس کو فروغ دینے کی کوششیں بھی بروئے کار لائیں۔

’’سیمام “ نامی ابائی ثقافت کا میلہ

سیمام توروالی زبان کا لفظ ہے اور اس کے معانی عظمت، سنگار اور انتظام کے ہیں۔ مذکورہ ادارے نے سوات کے تباہ کن سیلاب کے ایک سال بعد جولائی 2011 ء میں بحرین میں ایک تین روزہ میلے کا اہتمام سیمام کے نام سے اس وقت کے خیبر پختونخوا حکومت کے مالی تعاون سے کیا۔ اس میلے میں تین دن لوگوں نے اپنی ثقافتی کھیلوں، موسیقی اور بحثوں میں بھرپور طور پر حصّہ لیا۔ مقامی شاعروں، موسیقاروں اور فنکاروں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ اس میں پانچ دہائی پہلے متروک کھیلوں اور رقصوں کو بھی ذندہ کیا۔ اس میلے میں، مینگورہ، کالام، اتروڑ، اباسین کوہستان، چترال اور گلگت سے بھی لوگوں نے حصّہ لیا اور اپنی اپنی ثقافت کی نمائندگی بھی کی۔ سیمام چونکہ لوگوں کی اپنی ثقافت کا میلہ تھا اس لئے اس میں ہر طبقے، عمر اور مکتب فکر کے لوگوں نے شمولیت کی۔

سیمام کے اخری دن سیمنار کا اہتمام کیا گیا جسمیں پشاور، مینگورہ، اسلام اباد اور لاہور سے دانشوروں اور محقیقن نے بھی شرکت کی۔

’’ اینان “ نامی کتاب کی اشاعت

اس سماجی ترقیاتی تنظیم نے 2012 ء میں توروالی کے کلاسکی ’’ڙو “ پر مشتمل اینان (قوس قزح) نامی کتاب چھاپی جس میں توروالی کے ان قدیم قطعات کو اردو ترجمے کے ساتھ پیش کیا گیا۔ یہ کتاب قارئین میں بہت مقبول رہی اور پاکستان کے بڑے اخبارات اور بی بی سی نے اس پر مضامین شائع کئے۔ توروالی شاعری کو تحریر میں لانے کی یہ پہلی کوشش تھی۔ اس کتاب کا دوسرا ایڈیشن چھپائی کے مراحل میں ہے۔

توروالی موسیقی کو نئے انداز میں پیش کرنے کی کوشش

یہ کوشش جاری ہے۔ یہ بھی اپنی نوعیت کی پہلی کوشش ہے۔ بحرین میں مقیم مذکورہ ادارہ اس کوشش کو اگے بڑھارہا ہے۔ اس کے تحت توروالی ’’ڙو “ اور ’’پھل “ کے مختلف طرز کو ایک اچھے سٹوڈیو میں ریکارڈ کرایا گیا اور منجُورا کے نام سے البم پیش کیا گیا۔ اس البم میں جدید طرز کے گیت اور گانوں کو بھی ریکارڈ کیا گیا۔ پھر اس موسیقی کو وڈیو سمیت ڈی وی ڈی میں پیش کیا۔ اور اسے ”منجُورا“ یعنی تحفے کا نام دیا گیا۔

توروالی موسیقی کے کم از کم 400 اڈیو کیسٹس موجود ہیں۔ مذکورہ ادارہ اپنے طور پر ان کیسٹس کو جمع کر رہا ہے اور پھر ان کو ڈی وی ڈی پر منتقل کر رہا ہے تاکہ یہ عوام کے لئے اسانی سے میسّر ہو کیونکہ ٹیپ پلیئرز کی جگہ اب سی ڈی اور ڈی وی ڈی پلیئرز نے لی ہے۔

ابائی ثقافتوں اور زبانوں کی ایسی ساری کوششیں اپنی جگہ نہایت قابل تعریف و تقلید ہیں لیکن عالمگیریت اور جدیدت کے اس دور میں یہ کوششیں شائد اتنی پائدار نہ ہوں کیونکہ ’تہذیب ‘ اور معیشت کے مراکز کہیں اور واقع ہیں اور جن کی باگیں کارپوریٹ سیکٹر اور ’کارپوریٹ حکومتوں ‘ کے ہاتھ میں ہیں۔ ایسے میں توروالی جیسی ’چھوٹی ‘ قومیتی اکائیاں کس طرح اپنی ثقافت، شناخت اور زبان کو ذندہ رکھ سکتی ہیں اس کے امکان زیادہ روشن نہیں۔ پاکستانی ریاست کو ’مصنوعی یکسانیت ‘ کے خود ساختہ نظریات سے جان چھڑانا ہوگی اور پاکستان میں بسنے والی ساری زبانوں اور ثقافتوں کی سرکاری سرپرستی کرنی ہوگی۔